World
عالمی توانائی کی فراہمی اور ایران جنگ کا اثر
موجودہ جنگی صورتحال نے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی رس رسد کو شدید متاثر کیا ہے۔ فوسل فیول اب بھی عالمی توانائی کا اکیاسی فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔
موجودہ عالمی منظر نامے میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے دنیا بھر میں توانائی کے شعبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار اور چارٹس کے مطابق، دنیا اپنی کل توانائی کا اکیاسی فیصد حصہ فوسل فیول یعنی تیل اور گیس سے حاصل کرتی ہے۔ اس پس منظر میں مشرق وسطیٰ کا خطہ عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی کا سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے، جہاں سے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل دنیا کے کونے کونے تک کی جاتی ہے۔
جب بھی اس خطے میں کسی قسم کی جنگ یا بحران پیدا ہوتا ہے، تو اس کے براہ راست اثرات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رس رسد پر پڑتے ہیں۔ سپلائی کے راستے بند ہونے یا پیداوار متاثر ہونے کی صورت میں پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی حالات نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے، اور اگر صورتحال جلد نہ سنبھلی تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
عالمی توانائی کے ماہرین مختلف چارٹس اور رپورٹس کے ذریعے یہ واضح کر رہے ہیں کہ کس طرح سپلائی میں خلل پڑنے سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ فوسل فیول پر یہ انحصار اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع پر فوری توجہ دی جائے تاکہ خطے کے تنازعات سے عالمی معیشت کو محفوظ بنایا جا سکے۔