World
نیپال میں اچانک سیلاب کا قہر، دریائے بُڑھی گنڈکی کے کنارے عمارتیں تباہ
نیپال میں اتوار کے روز آنے والے اچانک سیلاب کے نتیجے میں دریائے بُڑھی گنڈکی کے کنارے واقع متعدد عمارتیں پانی کے تیز ریلے میں بہہ گئیں۔ حکام اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
نیپال میں اتوار کے روز موسم کی اچانک خرابی اور موسلا دھار بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، نیپال کے علاقے میں واقع دریائے بُڑھی گنڈکی کے نچلے حصوں میں پانی کی سطح اچانک خطرناک حد تک بلند ہو گئی، جس نے اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو لپیٹ میں لے لیا۔ سیلابی ریلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ دریا کے کنارے بنی کئی رہائشی اور تجارتی عمارتیں ریت کے گھروندوں کی طرح پانی میں بہہ گئیں۔ اس ناگہانی آفت نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ متاثرہ علاقے میں مواصلاتی نظام اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو متاثرہ مقامات تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس سیلاب سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ کروڑوں روپے لگایا جا رہا ہے، جبکہ حکام نے دریا کے قریب رہنے والے تمام افراد کو الرٹ جاری کرتے ہوئے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور غیر معمولی بارشیں اس قسم کے اچانک سیلاب کی بنیادی وجہ بن رہی ہیں۔ حکومتِ نیپال نے صورتحال پر قابو پانے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرِ اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس قدرتی آفت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان کو روکا جا سکے اور بے گھر ہونے والے افراد کو عارضی پناہ گاہیں اور طبی امداد فراہم کی جا سکے۔