World
اسرائیلی انتخابات پر غزہ جنگ کے اثرات اور سیاسی تجزیہ
اسرائیل میں ہونے والے انتخابات اور سیاسی ہلچل کسی تبدیلی کی خواہشمند نہیں بلکہ یہ سات اکتوبر کے بعد شروع ہونے والے شدت پسندانہ نظریات کی مزید گہرائی کا پتہ دیتی ہے۔ غزہ کی صورتحال نے اسرائیلی سیاسی منظرنامے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔
اسرائیل میں حالیہ سیاسی حرکیات اور انتخابات کے اشارے کسی مثبت تبدیلی یا امن کی خواہش کا پتہ نہیں دیتے، بلکہ یہ اس انتہا پسندانہ سوچ اور جنگجویانہ رجحانات کی گہری جڑیں مضبوط کرنے کا اشارہ دیتے ہیں جو سات اکتوبر کے بعد ملک میں تیزی سے پھیلے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، غزہ میں جاری عسکری کارروائیوں اور انسانی المیے نے اسرائیلی معاشرے اور سیاست کے دھارے کو ایک خاص سمت میں موڑ دیا ہے جہاں روایتی طور پر نرم یا اعتدال پسند سمجھی جانے والی آوازیں بھی پس منظر میں چلی گئی ہیں۔
انتخابی ماحول کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ووٹرز کے اندر سلامتی کے نام پر شدت پسندی اور جارحانہ دفاعی پالیسیوں کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور اور بیانات میں غزہ میں جاری کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے اور مزید سختی برتنے کے وعدے کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ملک کے اندر سیاسی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے اور امن کے مذاکرات کی گنجائش کو انتہائی محدود کر دیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود، اندرونی سیاسی مجبوریوں اور جنگی جنون نے اسرائیلی قیادت کو ایسے راستے پر ڈال دیا ہے جہاں سے واپسی کے امکانات فی الحال معدوم نظر آتے ہیں۔ سیاسی مہمات میں اس بات پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ ملک کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور اس کا حل صرف اور صرف مزید طاقت کا استعمال ہے۔
مجموعی طور پر، غزہ کی جنگ نے نہ صرف خطے کے خط و خال کو خون سے رنگ دیا ہے بلکہ خود اسرائیل کے اندر جمہوریت اور سیاسی سوچ کے پیمانے بھی بدل دیے ہیں۔ آنے والے انتخابات اس بات کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں کہ اسرائیلی معاشرہ فی الحال کسی سیاسی رواداری یا امن کے عمل کی بجائے عسکریت پسندی کے تسلسل کو ہی اپنا سب سے بڑا محافظ سمجھ رہا ہے۔