LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک فائرنگ اور آئی سی ای اہلکار کا اسکینڈل

News Image
نیویارک میں آٹھ اکتوبر کو پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں ملوث امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کا اہلکار ایک متنازع گرفتاری میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔ اس اہلکار کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر حاملہ خاتون پر تشدد کرتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔
امریکہ کے شہر نیویارک میں آٹھ اکتوبر کو پیش آنے والے ایک فائرنگ کے واقعے میں ملوث امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکار کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہی اہلکار ماضی میں منی پولس میں ہونے والی ایک انتہائی متنازع گرفتاری کا بھی مرکزی کردار تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا اور خبروں کی زینت بنی تھی۔ اس ویڈیو میں مذکورہ اہلکار کو ایک حاملہ خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر جارحانہ رویہ اپناتے اور تشدد کرتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ اس نئے انکشاف کے بعد امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر موجود رویوں اور جوابدہی کے نظام پر ایک بار پھر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس اہلکار کے تمام پچھلے ریکارڈ اور فائرنگ کے اس تازہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ دوسری جانب، متعلقہ اداروں نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اعلیٰ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے اور آئندہ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔