World
ٹرمپ کی سعودی عرب کے ساتھ حوثیوں کیخلاف ممکنہ کارروائی کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ یمنی حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فضائی اور عسکری کارروائیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ بیان ریاض ہوائی اڈے پر حوثیوں کے ایک مبینہ حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکہ یمنی حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی عسکری کارروائیوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ایک حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اس حملے کے بعد جوابی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا ہے اور اب امریکی صدر کے اس بیان نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا موڑ لا کھڑا کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ریاض ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ سٹریٹجک تنصیبات کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا، جس نے عالمی طاقتوں کی توجہ اس تنازع کی طرف مبذول کروائی ہے۔ یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کی طرف سے ہمسایہ ممالک بالخصوص سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے واقعات میں حالیہ مہینوں کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی انتظامیہ ان حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور صدر ٹرمپ کا یہ بیان واشنگ턴 کی طرف سے ریاض کے ساتھ مضبوط دفاعی اتحاد کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ امریکی شمولیت کی حتمی نوعیت اور وقت کے بارے میں ابھی تک مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم واشنگ턴 اور ریاض کے درمیان رابطے تیز ہو چکے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ باضابطہ طور پر اس مہم کا حصہ بنتا ہے تو اس سے یمن کی جنگ اور خطے کے مجموعی تنازعات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے نہ صرف حوثیوں پر دباؤ میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں ایک بڑی فوجی کشیدگی کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے کیونکہ سفارتی حل کے بجائے عسکری کارروائیوں میں اضافے سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ خطے کو کسی بڑے انسانی بحران یا جنگی دلدل سے بچایا جا سکے، جبکہ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال امریکہ اور سعودی عرب کے آئندہ اقدامات پر منحصر ہوگی۔