World
ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملہ: 12 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی
ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق اور تین سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے اس کارروائی کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے فیصلہ کن ردعمل کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کے روز ہونے والے ایک شدید حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور تین سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مملکت میں ہونے والا یہ سب سے بڑا اور ہلاکت خیز حملہ ہے، جو کہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حوثی باغیوں نے اس گرمیوں میں اپنی عسکری مہم میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ اس ہفتے ہوائی اڈے پر ہونے والے اس تیسرے حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں چار سعودی شہری، بنگلہ دیش کے دو جبکہ امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق زخمیوں کی تعداد تین سو نو تک پہنچ چکی ہے جنہیں فوری طور پر ایمبولینسوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دارالحکومت کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
حملے کے بعد ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام فضائی آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے گئے۔ فضائی ٹریفک کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ڈیڑھ سو سے زائد آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ دو سو سے زیادہ پروازوں میں تاخیر ہوئی۔ کئی مسافروں اور عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے کی آواز سنتے ہی ایئرپورٹ پر شدید بھگدڑ مچ گئی اور لوگ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزارت صحت نے ہنگامی بنیادوں پر ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر کے انہیں اسپتالوں میں طلب کر لیا جبکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اس المناک واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت والے عسکری اتحاد نے اس کارروائی کو ایک بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائی اور باقاعدہ جنگی جرم قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن حوثی باغیوں کے خلاف سعودی جوابی کارروائیوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ دریں اثنا، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ متعدد مغربی اور عرب ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو اس ہوائی اڈے کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔