World
پاکستان کا سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے عزم کا اعادہ
ترجمان دفتر خارجہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے حالیہ حوثی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اسلام آباد نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کا بھرپور دفاع کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اسلام آباد: دفتر خارجہ نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے ساتھ اپنے غیر متزلزل اور مضبوط عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ بیان ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ہونے والے اس حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک شہری تنصیب اور ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا دہشت گردی کی بدترین کارروائی ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ اس دفاعی معاہدے کا مقصد تمام رکن ممالک کے درمیان اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا ہے تاکہ کسی بھی ایک ریاست پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ رواں ماہ کے اوائل میں اسٹریٹجک، پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس میں بھی رکن ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر عسکری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک بیان میں ریاض حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ معصوم شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل برداشت ہے اور اس سے خطے کا امن خطرے میں پڑتا ہے۔ انہوں نے دو برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مشکل وقت میں سعودی قیادت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور مملکت کے دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ یمن میں حوثیغضہ اور سعودی زیرقیادت اتحاد کے درمیان کشیدگی کے اس تناظر میں پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کے حق خودارادیت اور دفاع کی بھرپور حمایت کی ہے۔ پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کا موقف رہا ہے کہ مکہ ڈیفنس الائنس خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں اجتماعی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت پاکستان نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں کی اس قسم کی جارحیت کا سنجیدہ نوٹس لے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ اسٹریٹجک تنصیبات کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔