LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم کا طالبہ طیبہ اعجاز خودکشی کیس پر نوٹس اور فوری کارروائی کا حکم

News Image
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ویزا فراڈ کے باعث طالبہ طیبہ اعجاز کی خودکشی کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس اور ایف آئی اے کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق ملزم نے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے اور نوکری کے نام پر کروڑوں روپے ہتھیائے تھے۔
اسلام آباد میں ویزا فراڈ کے ایک دلخراش واقعے کے بعد حکومت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف کمشنر کو طلب کرکے طالبہ طیبہ اعجاز کی خودکشی کے واقعے پر تفصیلی بریفنگ لی اور ملزم کی فی الفور گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ گزشتہ ہفتے اس وقت سامنے آیا جب سرگودھا سے تعلق رکھنے والے محمد اعجاز کی بیٹی طیبہ اعجاز شدید ذہنی دباؤ کے باعث مبینہ طور پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھی۔ مقتولہ کے والد نے تھانے میں درخواست جمع کروائی تھی جس کے بعد پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے پولیس اور ایف آئی اے نے مشترکہ تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات اور ایف آئی اے کے مطابق مرکزی ملزم نے انتہائی مکارانہ طریقے سے خاندان کا اعتماد حاصل کیا۔ ملزم نے خود کو سپریم کورٹ کا اکائونٹنٹ ظاہر کیا جبکہ حقیقت میں وہ کوئی رجسٹرڈ ویزا ایجنٹ نہیں تھا۔ ملزم نے طیبہ کے بھائی کو نوکری دلوانے کے نام پر ساڑھے پانچ لاکھ روپے اور امریکہ کی نامور ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ دلانے کے بہانے سات ملین روپے سے زائد کی رقم ہتھیائی۔ خاندان نے اس فراڈیے کو رقم دینے کے لیے اپنی قیمتی زمین اور سونے کے زیورات فروخت کیے تھے۔ جب متاثرہ خاندان کو معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ کروڑوں روپے کا فراڈ ہو چکا ہے تو صدمے اور دباؤ کے باعث طیبہ اعجاز نے انتہائی قدم اٹھایا۔ مقتولہ کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس نے کال ڈیٹیل ریکارڈ اور لوکیشن ڈیٹا کی مدد سے تلاش شروع کی تو جی ٹین اتوار بازار کے قریب گرین بیلٹ سے ان کی لاش درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی ملی۔ لاش کو فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد فرانزک شواہد اکھٹے کر لیے گئے ہیں۔ پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم اور اس کی مبینہ خاتون سہولت کار کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جبکہ ملزم کا نام اسٹاپ لسٹ میں بھی شامل کر دیا گیا ہے تاکہ وہ ملک فرار نہ ہو سکے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔