LIVE
Loading Breaking News...

حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈے استعمال نہ کرنے کی وارننگ

News Image
یمنی حوثی گروپ نے ریاض ہوائی اڈے پر ایک ہلاکت خیز حملے کے بعد تمام بین الاقوامی فضائی کمپنیوں اور مسافروں کو سعودی عرب کے ہوائی اڈے استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔ اس حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے جو کہ گزشتہ ایک دہائی میں مملکت پر ہونے والا بدترین حملہ ہے۔
یمنی حوثی گروپ نے فضائی کمپنیوں اور مسافروں کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے کسی بھی ہوائی اڈے کو استعمال کرنے سے گریز کریں۔ یہ انتباہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شدید اور ہلاکت خیز حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں مسافر زخمی ہوئے، جسے گزشتہ ایک دہائی کے دوران سعودی عرب کی سرزمین پر ہونے والا بدترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ریاض ہوائی اڈے کے مسافر ٹرمینل پر ایک پراجیکٹائل یا میزائل لگا جس کی وجہ سے شدید جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس واقعے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ سکیورٹی ماہرین اور عالمی رہنماؤں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے، جب کہ حوثی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں جاری کشیدگی اور فضائی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ اس حملے کے فورا بعد خطے میں فضائی سفر کے حوالے سے بھی شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں اور کئی ایئرلائنز نے اپنی پروازوں کے روٹس تبدیل کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ حوثی ترجمان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں فضائی کمپنیوں پر واضح کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دیں۔ اس تازہ پیش رفت کے بعد سعودی حکام اور اتحادی فورسز بھی انتہائی ہائی الرٹ پر ہیں اور جوابی کارروائیوں کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری نے تمام فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ عام شہریوں کو مزید جانی نقصان سے بچایا جا سکے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں دوبارہ شروع کی جا سکیں۔