World
جرمنی کا یوکرین کے صدر زیلنسکی کی حمایت کا اعلان، ٹرمپ کے مطالبے پر ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر کو تبدیل کرنے کے مطالبات کے بعد جرمنی نے ولادیمیر زیلنسکی کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ یہ تنازع روس کے ساتھ ڈیزل کے مبینہ سودے اور دیگر سیاسی امور پر سامنے آنے والے بیانات کے بعد پیدا ہوا۔
برلن: جرمنی نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد یوکرین کی موجودہ قیادت کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی اور حمایت کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کی سیاسی قیادت کا فیصلہ صرف یوکرینی عوام کا حق ہے اور کسی بیرونی دباؤ یا مطالبے کے تحت اس میں تبدیلی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کے مبینہ سودے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یوکرین کو ایک نیا صدر ملنا چاہیے۔ امریکی رہنما نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت ملکی حالات کو بہتر انداز میں سنبھالنے میں ناکام رہی ہے اور انہیں فوری طور پر تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اس بیان کے بعد بین الاقوامی سطح پر سفارتی ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف ممالک کے ردعمل سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب برلن سے جاری ہونے والے بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ یوکرین کی سالمیت اور اس کی منتخب قیادت کے ساتھ جرمنی کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ جرمن حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی یوکرین کے ساتھ کھڑے رہنا ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ اس معاملے پر یوکرینی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے اس مطالبے سے واشنگٹن اور برلن کے درمیان یوکرین پالیسی پر اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف کیف میں بھی اس بیان پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ یوکرین کے حامی ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جنگ زدہ ملک میں قیادت کی تبدیلی کے مطالبات سے ملک میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے تمام فریقین کو محتاط رویہ اپنانا چاہیے۔