World
غزہ جنگ بندی ایک سال بعد: ٹرمپ بورڈ آف پیس اور زمینی حقائق
غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کو ایک سال گزرنے کے باوجود اب تک علاقے میں تعمیر نو اور امن کے وعدے پورے نہیں ہو سکے۔ اقوام متحدہ اور مبصرین کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کو ایک سال بیت چکا ہے، لیکن اس طویل عرصے کے باوجود خطے کے لیے کیے جانے والے وعدوں کا 'اگلا دن' تاحال حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو بدل کر رکھ دیا ہے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے قائم کردہ 'بورڈ آف پیس' کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک سال گزرنے کے باوجود وہ خطے میں پائیدار امن اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کس حد تک کامیاب رہا ہے۔
دوسری جانب زمینی حقائق انتہائی دلخراش ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مختلف مقامات پر چھاپوں اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں متعدد فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اسپیشل رپورٹر کا کہنا ہے کہ غزہ پر ہونے والے حملوں میں اتنی تباہی مچی ہے جو کہ متعدد ایٹم بموں کی تباہی کے برابر ہے۔ اتنی بڑی تباہی کے بعد تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی واپسی کے لیے کوئی بھی مؤثر لائحہ عمل تاحال سامنے نہیں آ سکا ہے۔
اسرائیل اور حماس کے مابین تنازع کے تین سال مکمل ہونے پر عالمی برادری کی کوششیں بھی اب تک ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ طبی عملے اور امدادی اداروں کو غزہ میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں اسپتال، اسکول اور رہائشی علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اگرچہ سفارتی سطح پر امن کے قیام کے لیے مختلف فورمز پر بات چیت جاری ہے، تاہم عام فلسطینی شہریوں کے لیے روزمرہ کی زندگی بدستور ایک عذاب بنی ہوئی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جب تک عالمی طاقتیں سنجیدہ اور عملی اقدامات نہیں اٹھاتیں، اس خطے میں پائیدار امن کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔