World
سعودی عرب کا حوثی حملے پر ردعمل، یمن جنگ اور محدود اختیارات
حوثی باغیوں کی جانب سے ہوائی اڈے پر کیے گئے حملے کے بعد سعودی عرب کے لیے جوابی اقدام ناگزیر ہو گیا ہے۔ تاہم، ریاض کے پاس موجود تزویراتی اور عسکری اختیارات انتہائی محدود ہیں۔
سعودی عرب کو حوثی باغیوں کی طرف سے ہوائی اڈے پر کیے گئے حالیہ حملے کے بعد ایک بار پھر بھرپور جوابی کارروائی کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے مطابق، اس حملے نے یمن کے محاذ پر ایک بار پھر کشیدگی کو ہوا دی ہے اور سعودی قیادت کو ایسے وقت میں انتہائی مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں جب خطے میں پہلے ہی تناؤ عروج پر ہے۔ حالیہ مہینوں میں ہونے والی غلط حکمت عملیوں اور غلط تخمینوں نے سعودی عرب کو یمن کی اس طویل جنگ میں دوبارہ الجھا دیا ہے جس سے نمٹنے کے لیے اب ریاض کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
سی این این اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، سعودی زیرقیادت اتحادی افواج نے حوثی اہداف کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ باغیوں کو منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ تزویراتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے پاس اس وقت جوابی کارروائی کے لیے عسکری اور سفارتی سطح پر بہت محدود اختیارات بچے۔ ایک طرف براہ راست فوجی کارروائی خطے میں امن کی بحالی کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہے تو دوسری طرف جارحیت کا جواب نہ دینا ملکی دفاع کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی پالیسی ساز انتہائی محتاط انداز میں اپنے اگلے قدم کا تعین کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یمن کے اندر پہلے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار انسدادِ حوثی اتحاد کو دوبارہ جوڑنے کے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا سعودی عرب یمن کے مختلف دھڑوں کو ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر پائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست کا رخ طے کرے گا۔ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات نے بھی اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خطے کے مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کو نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی محاذ پر بھی انتہائی دباؤ کا سامنا ہے، اور اسے اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک متوازن حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ اس نئے محاذ پر قابو پایا جا سکے۔