LIVE
Loading Breaking News...

چین کی تجارتی طاقت اور کرنسی کا تنازع ایک تجزیہ

News Image
مختلف عالمی تجزیوں کے مطابق چین کی برآمدی طاقت اور مضبوط تجارت کا راز اس کی مسابقتی صلاحیت میں پوشیدہ ہے نہ کہ یوان کی قدر میں کمی میں۔ چین نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی کرنسی کی قدر جان بوجھ کر کم رکھی گئی ہے۔
بین الاقوامی اقتصادی مباحثوں میں اکثر یہ نکتہ اٹھایا جاتا ہے کہ چین کی تجارتی برتری کی بنیادی وجہ اس کی کرنسی یعنی رین من بی یا یوان کی قدر میں کمی ہے۔ تاہم، حالیہ تجارتی تجزیوں اور عالمی اقتصادی رپورٹس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چین کی عالمی مارکیٹ میں مضبوط پوزیشن کا اصل سبب اس کی پیداواری مسابقت، جدید انفراسٹرکچر اور سپلائی چین کی شاندار کارکردگی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ کرنسی کی قدر کم کر کے ناجائز تجارتی فوائد حاصل کر رہا ہے، زمینی حقائق کے منافی ہے۔ چینی حکام اور معاشی ماہرین نے بھی بارہا ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یوان کی شرح مبادلہ کو مارکیٹ کی قوتیں طے کرتی ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مسابقت نے چین کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی صنعتی پیداوار کو مزید بہتر بنائے، جس کے نتیجے میں برآمدات میں استحکام آیا ہے۔ چین کی برآمدی صنعتیں جدید ٹیکنالوجی، بہتر لاجسٹکس اور وسیع پیمانے پر پیداوار کے فوائد کی وجہ سے دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی منڈیوں میں کرنسی کی قدر کے حوالے سے بحث مباحثے جاری رہتے ہیں، لیکن ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ محض کرنسی کی ہیرا پھیری سے اتنے بڑے پیمانے پر پائیدار تجارتی سرپلس حاصل کرنا ممکن نہیں۔ چین کی اقتصادی کامیابی دراصل اس کی طویل مدتی صنعتی پالیسیوں، مسلسل تحقیق و ترقی اور کاروباری ماحول کی بہتری کا نتیجہ ہے۔ دنیا بھر کے پالیسی سازوں کو اب اس بات کا ادراک ہو رہا ہے کہ عالمی تجارت میں مقابلہ بازی کے لیے صرف کرنسی کے بجائے پیداواری صلاحیت کو بڑھانا اصل کلید ہے۔