Business
پی ایس ایکس میں مندی، آئی ایم ایف معاہدے کے اثرات زائل
عالمی اور علاقائی جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مثبت شروعات کے بعد شدید مندی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی برتنے کی وجہ سے کے ایس ای 100 انڈیکس تین سو پچاس سے زائد پوائنٹس گر گیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے دوران ملے جلے رجحان کے بعد آخر کار مندی غالب آگئی۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ عملے کی سطح پر طے پانے والے معاہدے کی خوشی بھی جغرافیائی سیاسی یعنی جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے بادلوں تلے دب گئی۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق ابتدائی اوقات میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران تیزی کا رجحان دیکھا گیا تھا اور سرمایہ کار کچھ پرامید نظر آرہے تھے تاہم دن کے اختتام تک یہ تمام ابتدائی فوائد ضائع ہوگئے۔ ہفتہ وار کاروباری جائزے کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس میں تین سو باون سے زائد پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر رونما ہونے والے سیاسی اور اقتصادی حالات بھی براہ راست مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کا معاہدہ اگرچہ معاشی استحکام کی جانب ایک مثبت قدم ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی غیر یقینی صورتحال اور خطے کے حالات نے مارکیٹ کے شرکاء کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کاروباری ماہرین کا خیال ہے کہ مارکیٹ میں پائیدار تیزی کے لیے نہ صرف معاشی اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے بلکہ سیاسی اور جیو پولیٹیکل محاذ پر بھی استحکام کا آنا انتہائی ناگزیر ہے۔ آنے والے دنوں میں سرمایہ کار کی نظریں ملکی سیاسی حالات اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے آئندہ کے فیصلوں پر مرکوز رہیں گی تاکہ مارکیٹ کے اگلے سمت کا تعین کیا جا سکے۔