LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ اور طوفان کا اثر

News Image
بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت تیزی دیکھی گئی جب ایران کی جانب سے خلیج میں آئل ٹینکرز پر حملے تیز کر دیے گئے۔ دوسری جانب امریکی گلف میں سمندری طوفان کے خطرے کے پیش نظر تیل کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی اہم وجوہات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور قدرتی آفات کے خدشات شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور گردونواح میں آئل ٹینکرز پر حملوں میں تیزی لائی گئی ہے جس سے دنیا بھر میں توانائی کی رس رسد کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ تجارتی حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر یہ بحران مزید طول پکڑتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔ دوسری طرف امریکی خلیج میکسیکو کے خطے میں ایک طاقتور سمندری طوفان کے خطرے نے تیل اور گیس کی پیداوار کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ طوفان کے پیش نظر کئی آف شور پروڈکشن تنصیبات سے عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور حفاظتی اقدامات کے تحت تیل کی پیداوار عارضی طور پر معطل یا محدود کی جا رہی ہے۔ ان دوہرے دباؤ، یعنی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور موسمیاتی خطرات کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور تاجروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے نرخوں میں اتار چڑھاو جاری ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ان دونوں محاذوں پر صورتحال واضح نہیں ہوتی، انرجی مارکیٹ میں غیر یقینی کی یہ لہر برقرار رہے گی۔ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے انرجی بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا सकें۔