LIVE
Loading Breaking News...

ریاض ایئرپورٹ حملہ اور سعودی عرب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ

News Image
حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب میں حملوں میں تیزی لائی گئی ہے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی معاشی اور سلامتی سے متعلق ساکھ کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی سرزمین پر حملوں میں حالیہ تیزی نے خطے میں ایک بار پھر سنگین سیکیورٹی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں تناؤ کی فضا قائم ہے۔ اس طرح کے حملے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر اس تاثر کو بھی گہرا کر رہے ہیں کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال تاحال غیر مستحکم ہے۔ اگرچہ ماہرین کے مطابق اس قسم کے حملوں سے ہونے والا جسمانی نقصان یا عمارات کو پہنچنے والا نقصان تو بڑی حد تک جلدی مرمت کر لیا جاتا ہے، لیکن اس سے ملک کی طویل مدتی ساکھ اور مالیاتی استحکام کے حوالے سے جو سوالات اٹھتے ہیں، وہ زیادہ تشویشناک ہیں۔ سعودی عرب طویل عرصے سے اپنے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پرامید ہے اور اس سلسلے میں وژن 2030 جیسے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ تاہم، اس طرح کے حملے سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مسافروں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ دارالحکومت کے مرکزی ہوائی اڈے پر اس نوعیت کی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ حوثی باغیوں کی صلاحیتیں اور ان کے حملوں کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو مزید موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صورتحال سفارتی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا چکی ہے کیونکہ اس سے جنگ بندی یا امن مذاکرات کے عمل کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری نے اس امر پر زور دیا ہے کہ خطے میں جاری اس تنازع کا فوری اور پائیدار سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ سلامتی کونسل اور دیگر عالمی ادارے اس بات کے متقاضی ہیں کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ سعودی حکام اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے کس قسم کی عسکری اور سفارتی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں، کیونکہ ریاض کی سلامتی پر ہر آنچ براہ راست خطے کے استحکام پر اثرانداز ہوتی ہے۔