World
وسطی نیپال میں سیلاب کا قہر، عمارتیں تباہ
نیپال کے دریائے بُڑھی گنڈکی میں اچانک شدید سیلاب آنے سے متعدد عمارتیں اور پُل پانی میں بہہ گئے۔ دو ماہ قبل ملک میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد یہ نیا واقعہ سامنے آیا ہے۔
وسطی نیپال میں دریائے بُڑھی گنڈکی میں اچانک آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں کئی عمارتیں اور اہم پُل پانی کے ریلے میں بہہ گئے ہیں۔ اس ناگہانی آفت نے ایک بار پھر خطے کے مکینوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر جب ملک کو اس طرح کی بڑی تباہی کا سامنا کیے ہوئے ابھی محض دو ماہ ہی گزرے ہیں۔ مقامی حکام اور ریسکیو ٹیمیں صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دریائے بُڑھی گنڈکی میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوئی جس نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کر دیا۔ پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے کئی رہائشی عمارتیں اور آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والے پُل مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت کی وجہ سے مقامی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور دریائے کے کنارے آباد بستیوں کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی دو ماہ قبل نیپال میں بڑے پیمانے پر تباہ کن سیلاب آئے تھے جنہوں نے پورے ملک میں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔ اس تازہ ترین سیلاب نے عوام اور حکومت کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ ملک کے بالائی علاقوں میں موسم کی شدت میں تاحال کمی نہیں آئی ہے۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اچانک سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا نتیجہ ہیں جو آنے والے دنوں میں مزید خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔