World
چھ سالہ پرانے دوہرے قتل کے مقدمے میں ایک شخص گرفتار
برطانیہ میں چھ سال قبل لاک ڈاؤن پارٹی کے دوران دو نوجوانوں کے قتل کے پرانے مقدمے میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے بتیس سالہ جونیئر اجوس اور اکیس سالہ شریف ٹال کے قتل کے الزام میں چھتیس سالہ ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔
برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھ سال قبل پیش آنے والے ایک ہولناک دوہرے قتل کے مقدمے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے چھتیس سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس مقدمے کا تعلق اس دلخراش واقعے سے ہے جو کووڈ نائینٹین لاک ڈاؤن کے دوران ایک پارٹی میں پیش آیا تھا، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں دو نوجوان لقمہ اجل بن گئے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق اس اندوہناک واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت جونیئر اجوس جن کی عمر چھتیس سال تھی اور اکیس سالہ شریف ٹال کے طور پر ہوئی تھی، جنہیں انتہائی قریب سے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
واقعے کے وقت ملک بھر میں سخت لاک ڈاؤن نافذ تھا اور اس کے باوجود منعقد کی جانے والی اس نجی تقریب میں اچانک صورتحال اس وقت خراب ہو گئی جب نامعلوم مسلح افراد نے وہاں دھاوا بول دیا۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں دونوں نوجوان شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ اس وقت پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا تاہم ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہ آ سکی تھی اور یہ کیس طویل عرصے تک ایک معمہ بنا رہا۔ تفتیشی حکام نے اس سنگین جرم کو حل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور جدید تکنیکی ذرائع اور شواہد کی روشنی میں اب جا کر اصل ملزم تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے چھتیس سالہ مشتبہ شخص سے اس وقت سخت تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اس گھناؤنے جرم کے محرکات اور اس میں ملوث دیگر ممکنہ سہولت کاروں یا ملزمان کے بارے میں اہم سراغ لگائے جا سکیں۔ اس گرفتاری کے بعد مقتولین کے ورثاء میں انصاف کی ایک نئی امید جاگی ہے جو طویل عرصے سے اپنے پیاروں کے قاتلوں کو کٹہرے میں لانے کا انتظار کر رہے تھے۔ پولیس کا عزم ہے کہ وہ اس کیس سے جڑے تمام پہلوؤں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور عدالت میں مضبوط شواہد پیش کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔