LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب کے خلاف حوثی میزائل حملے اور فضائی دفاع کی حدود

News Image
سعودی عرب کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کے بار بار ہونے والے میزائل حملوں نے جدید ترین فضائی دفاعی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں سیکورٹی کے امور پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔
سعودی عرب کے اہم ترین تنصیبات اور شاہ خالد ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کی طرف سے بار بار ہونے والے میزائل حملوں نے عالمی سطح پر دفاعی ماہرین کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ ان حملوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ کروڑوں ڈالر مالیت کے جدید ترین امریکی اور مغربی فضائی دفاعی سسٹمز بھی پیچیدہ اور کم بلندی والے خطرات کے خلاف سو فیصد موثر ثابت نہیں ہو رہے۔ ماہرین کے مطابق، ان میزائلوں اور ڈرونز کا راستہ اور ان کی پرواز کی ہیئت ایسی ہوتی ہے کہ بعض اوقات ریڈار انہیں بروقت شناخت کرنے میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حوثی فورسز کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں میں بتدریج تکنیکی بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اندرونی یا بیرونی طور پر جدید عسکری معاونت حاصل ہے۔ کم بلندی پر پرواز کرنے والے یہ میزائل اور خودکش ڈرونز روایتی میزائل شکن بیٹریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ جب یہ میزائل شہری آبادی یا حساس تنصیبات کے قریب پہنچتے ہیں، تو ان کو فضا میں ناکارہ بنانا زمینی دفاعی نظام کے لیے انتہائی کٹھن مرحلہ بن جاتا ہے جس سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک کی دفاعی حکمت عملی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سعودی عسکری حکام اب اپنے فضائی دفاع کو مزید مربوط بنانے اور درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف مہنگے دفاعی سسٹمز پر انحصار کرنے کے بجائے ملٹی لیئرڈ ڈیفنس یعنی کثیر جہتی دفاعی ڈھانچے کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ ایسے تمام فضائی خطرات کو بروقت روکا جا سکے۔