World
آبنائہ ہرمز میں حملے تیز، ایران جنگ بندی کوششیں ناکام
آبنائہ ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں میں شدید اضافہ ہو گیا ہے جبکہ ایران کے خلاف جاری جنگ کو ختم کرنے کی سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی کے قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی وارننگ دی ہے۔
مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائہ ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں میں ڈرامائی شدت آ گئی ہے، جبکہ ایران کے خلاف جاری تنازع کو ختم کرنے یا جنگ بندی کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی کوششیں فی الحال تعطل کا شکار نظر آتی ہیں۔ اس اہم اور حساس پیش رفت نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنوں کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔
اس صورتحال کے تناظر میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے سخت الفاظ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی اور قوانین کو نظر انداز کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ بین الاقوامی اصولوں اور خطے کی سلامتی کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا تمام فریقین کے لیے ناگزیر ہے تاکہ مزید تباہی سے بچا جا سکے، بصورت دیگر سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایک ایسے بحری جہاز کو ناکارہ بنا دیا ہے جو مبینہ طور پر اس ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس واقعے نے دونوں حریف طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور فوجی جھڑپوں کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔
عالمی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائہ ہرمز میں اس طرح کی کشیدگی برقرار رہی تو اس کا براہ راست اثر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر پڑے گا۔ بین الاقوامی برادری ایک بار پھر فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازع کے پرامن حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کریں، تاہم فی الحال زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آرہے ہیں۔