LIVE
Loading Breaking News...

الخلیل میں اسرائیلی پابندیاں: فلسطینیوں کی زندگی عذاب بن گئی

News Image
مقبضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل (ہیبرون) میں سخت اسرائیلی پابندیوں اور چیک پوسٹس نے فلسطینی باشندوں کی زندگی کو ایک روزمرہ کا عذاب بنا دیا ہے۔ پابندیوں کی وجہ سے مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے اور ان کے روزمرہ کےمعمولات مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
مقبضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل (ہیبرون) میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے عائد کردہ شدید پابندیوں اور رکاوٹوں نے فلسطینی شہریوں کی زندگی کو ایک اذیت ناک اور روزمرہ کا عذاب بنا دیا ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں قائم کیے گئے آہنی گیٹس، رکاوٹوں اور چیک پوسٹس کی بھرمار نے مقامی لوگوں کے نقل و حرکت کے تمام راستے مسدود کر رکھے ہیں، جس کے باعث یہاں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی باشندوں کے مطابق، یہ صورتحال شہر کو آہستہ آہستہ ایک ویران اور خوف زدہ بھوت بنگلے میں تبدیل کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے لگائے گئے ان سخت سیکیورٹی پیمانہ جات کی وجہ سے فلسطینی خاندانوں کا آپس میں ملنا جلنا، بچوں کا اسکولوں تک پہنچنا اور مریضوں کا اسپتالوں کا رخ کرنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ ہر روز چیک پوسٹس پر تذلیل آمیز تلاشی اور گھنٹوں طویل انتظار نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں الخلیل کے تجارتی مراکز اور بازار بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، جہاں دکاندار گاہکوں کی عدم موجودگی اور پابندیوں کی وجہ سے اپنے کاروبار جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات انہیں ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے اور نفسیاتی طور پر توڑنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ محصور فلسطینیوں کو بنیادی انسانی حقوق اور نقل و حرکت کی آزادی مل سکے۔ الخلیل کے باسی اس پر آشوب دور میں بھی اپنے گھروں سے وابستہ ہیں، لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی پابندیاں ان کی بقا کی جنگ کو مزید کٹھن بنا رہی ہیں۔