LIVE
Loading Breaking News...

ہنگری میں گرمی کی لہر کے باعث نیوکلیئر پلانٹ بند

News Image
ہنگری میں شدید گرمی کی لہر اور دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے ملک کے سب سے بڑے نیوکلیئر پلانٹ کو بند کرنا پڑ گیا۔ اس اقدام کا مقصد پلانٹ کے کولنگ کے نظام کو رواں رکھنا اور ممکنہ خطرات سے بچنا ہے۔
ہنگری سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شدید گرمی کی لہر نے ملک کے توانائی کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں حکام کو ملک کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کو عارضی طور پر بند کرنے کا کٹھن فیصلہ کرنا پڑا۔ گرمی کی اس غیر معمولی لہر کی وجہ سے دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے، جو کہ اس پلانٹ کے کولنگ سسٹم کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ پلانٹس کو چلانے کے لیے پانی کی مسلسل اور وافر فراہمی ناگزیر ہوتی ہے تاکہ ری ایکٹر کو ٹھنڈا رکھا جا سکے، تاہم دریا کا پانی کم ہونے اور اس کا درجہ حرارت بڑھنے سے یہ عمل متاثر ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم حفاظتی تدابیر کے تحت اٹھایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے حادثے یا تکنیکی خرابی سے بچا جا سکے۔ نیوکلیئر تنصیبات میں کولنگ کا نظام انتہائی حساس ہوتا ہے اور پانی کی قلت یا زیادہ درجہ حرارت پلانٹ کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ہنگری کا یہ نیوکلیئر پلانٹ ملک کی مجموعی بجلی کی پیداوار میں ایک اہم حصہ دار ہے، اس لیے پلانٹ کی بندش سے ملک میں بجلی کی فراہمی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیاں اب روایتی اور جوہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی براہِ راست خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ ہنگری کی حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح اور درجہ حرارت بہتر ہوں گے، پلانٹ کو دوبارہ بحال کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دنیا کا کوئی بھی خطہ محفوظ نہیں رہا اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔