LIVE
Loading Breaking News...

سیউٹا میں تارکین وطن کے کیمپ خالی، تشدد کے الزامات

News Image
ہسپانوی حکام کی جانب سے تارکین وطن کے کیمپوں کو خالی کرانے کے بعد وہاں موجود افراد نے فوجیوں پر تشدد کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ واقعہ ہسپانوی علاقے سیউٹا میں ایک اہم شاہی دورے سے قبل پیش آیا ہے۔
ہسپانوی انکلیو سیউٹا میں تارکین وطن کے لیے قائم کیمپوں کو خالی کرانے کے دوران مبینہ طور پر تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، جب مقامی حکام اور سیکیورٹی فورسز نے ان کیمپوں کو خالی کرانے کی کارروائی کی تو وہاں مقیم افراد نے ہسپانوی فوجیوں پر بدسلوکی اور تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ تارکین وطن کا کہنا ہے کہ انہیں بغیر کسی مناسب نوٹس کے ان عارضی پناہ گاہوں سے نکالا گیا اور اس دوران طاقت کا بے جا استعمال کیا گیا۔ یہ سارا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اس علاقے میں ایک اہم شاہی دورہ متوقع تھا، جس کی وجہ سے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جا رہے تھے۔ حکام کی جانب سے ان علاقوں کو صاف کرنے کا مقصد ممکنہ طور پر سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور شاہی دورے کے انتظامات کو حتمی شکل دینا تھا۔ تاہم، تارکین وطن اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں بے دردی سے نکالا گیا اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔ دوسری جانب، ہسپانوی حکام نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن سیکیورٹی حلقوں کا ماننا ہے کہ سرحدی علاقوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے اس قسم کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سیউٹا میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور انسانی حقوق کے کارکنان اس تمام معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کیا جا سکے