Technology
بھارت میں گرفتار مظاہرین کے لیے اے آئی ایپ متعارف
بھارت میں ایک پچیس سالہ نوجوان نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسی منفرد موبائل ایپ تیار کی ہے جو گرفتار ہونے والے مظاہرین کو بحفاظت ان کے گھروں تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے مشکل حالات میں پھنسے شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے قانونی اور عملی آسانی پیدا کی ہے۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی فلاح و بہبود اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں بھارت کے ایک پچیس سالہ نوجوان نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایک ایسی موبائل ایپلیکیشن تیار کی ہے جو ملک بھر میں احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے مظاہرین کو بحفاظت ان کے گھروں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس نوجوان نے بتایا کہ کس طرح اس نے اس ٹول کو ڈیزائن کیا تاکہ مشکل وقت میں شہریوں کی فوری مدد کی جا سکے۔ موجودہ حالات میں جہاں احتجاج کرنے والوں کو قانونی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ ایپ ایک امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔
اس اے آئی ایپ کا بنیادی مقصد گرفتار شدگان کے اہل خانہ کو فوری معلومات فراہم کرنا اور قانونی امداد کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔ ایپ کے ذریعے نہ صرف گرفتار افراد کی درست صورتحال کا اندازہ لگایا جاتا ہے بلکہ یہ قانونی ماہرین اور رضاکاروں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ اس طرح کے تکنیکی اقدامات نے سول سوسائٹی کے اندر نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل ٹولز کو بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
نوجوان کا کہنا ہے کہ اس ایپ کی تیاری کا خیال اسے اس وقت آیا جب اس نے دیکھا کہ مظاہرین کو حراست میں لینے کے بعد ان کے پیاروں کو ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے شدید ذہنی کوفت اور طویل قانونی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کی مدد سے ڈیٹا کو تیزی سے پراسیس کیا جاتا ہے تاکہ بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔ اس ایجاد کو انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے بھی سراہا جا رہا ہے جو اسے ایک انقلابی قدم قرار دے رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے اس مثبت استعمال نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر درست سمت میں محنت کی جائے تو نوجوان نسل چیلنجز کو مواقع میں بدل سکتی ہے۔ اس ایپ کی کامیابی نے دنیا بھر کے دیگر ممالک کے ڈویلپرز کو بھی متوجہ کیا ہے جو اس ماجرا کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ہاں ایسے ہی فلاحی پروجیکٹس پر غور کر رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی ٹیکنالوجیز مزید نکھر کر سامنے آئیں گی اور عوامی سطح پر اس کے فوائد میں مزید اضافہ ہوگا۔