LIVE
Loading Breaking News...

ریاض ائیرپورٹ حملہ: سعودی عرب کا حوثی ملیشیا کو سخت جواب دینے کا اعلان

News Image
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ائیرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے میزائل یا ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس ہولناک حملے کو سعودی حکام نے جنگی جرم قرار دیتے ہوئے اس کا منہ توڑ اور بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ائیرپورٹ پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے ایک انتہائی شدید حملے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق جبکہ 300 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس حملے نے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حملہ اتنی شدت کا تھا کہ ائیرپورٹ کے تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔سعودی حکام نے اس حملے کو باضابطہ طور پر جنگی جرم قرار دیا ہے اور اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت کی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بزدلانہ کارروائی کا منہ توڑ اور بھرپور جواب دیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔زخمی ہونے والے تین سو سے زائد افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس حملے کے بعد بین الاقوامی پروازوں کے نظام پر بھی اثر پڑا ہے اور سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔عالمی برادری اور مختلف ممالک نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کے اس اقدام کو خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد سعودی عرب کی جانب سے عسکری جواب انتہائی سخت ہو سکتا ہے، جس سے خطے کی صورتحال میں مزید ڈرامائی تبدیلی آسکتی ہے۔