World
برطانیہ کی زیلنسکی کے لیے حمایت، ٹرمپ کے مطالبے پر ردعمل
برطانیہ نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ یہ ردعمل ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین میں ایک نئے صدر کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔
برطانیہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی حکومت کی غیر مشروط حمایت جاری رکھے گا۔ برطانوی حکومت کے ترجمان اور وزیر ویس اسٹریٹنگ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے لیے ایک نئے رہنما کے انتخاب کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر زیلنسکی نے روس کے ساتھ ایک مبینہ ڈیزل ڈیل پر کڑی تنقید کی تھی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی۔ برطانوی وزیر کا کہنا ہے کہ مشکل ترین حالات میں یوکرین کی قیادت کرنے والے صدر زیلنسکی کے ساتھ برطانیہ کا اتحاد اور تعاون بدستور برقرار رہے گا۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم برہم نے بھی یوکرین کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے ان کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے اور روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی خودمختاری کی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، مغربی اتحاد میں یوکرین کی قیادت کے معاملے پر اختلافات کے شواہد ابھر رہے ہیں، جہاں امریکہ کے سابق اور نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف یوکرین کے موجودہ سیاسی ڈھانچے کے حوالے سے سخت ہوتا جا رہا ہے، جب کہ یورپی اتحادی بالخصوص برطانیہ اب بھی صدر زیلنسکی کو ہی یوکرین کی جائز قیادت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اس کشمکش نے آنے والے دنوں میں جنگ بندی اور امن مذاکرات کے حوالے سے بین الاقوامی سفارت کاری کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ یوکرین کے لیے امریکی امداد اور سیاسی پوزیشن پر آنے والے مہینوں میں گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔