LIVE
Loading Breaking News...

روسی ڈیزل معاہدہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی میں تبدیلی

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی ڈیزل کی درآمد کے معاہدے نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ یوکرین نے اسے پوتن کے لیے تحفہ قرار دیا ہے جبکہ سیاسی مبصرین اسے انتخابات سے قبل کی مجبوری بتا رہے ہیں۔
عالمی سیاست اور توانائی کی منڈی میں اس وقت ایک نیا طوفان برپا ہو گیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی درآمد کا ایک نیا معاہدہ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ امریکی پالیسی میں ایک ڈرامائی اور تیز ترین تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مڈٹرم انتخابات میں صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔ اس فیصلے نے جہاں ایک طرف واشنگٹن کے روایتیحریفوں کے ساتھ تعلقات پر سوالیہ نشان لگائے ہیں، وہیں دوسری طرف ملکی سطح پر بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اس قدم کو ایک اہم حربہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے منظر عام پر آتے ہی یوکرین کی قیادت کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس معاہدے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے براہ راست 'ولادیمیر پوتن کے لیے ایک تحفہ' قرار دیا ہے۔ یوکرینی حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے روسی معیشت کو تقویت ملے گی اور عالمی سطح پر ماسکو پر دباؤ کم ہو جائے گا۔ دوسری طرف برطانوی وزیر ویس اسٹریٹنگ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ ڈیزل معاہدہ دراصل 'غیر سیاسی حقیقت' کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد انتخابات سے قبل عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینا اور امریکی سیاسی مجبوریوں کو پورا کرنا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا روس موجودہ حالات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیزل کی تمام مانگ کو پورا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی جریدے فنانشل ٹائمز اور دیگر خبر رساں اداروں کے مطابق، مغربی پابندیوں اور جنگی صورتحال کے باوجود روس اپنی توانائی کی برآمدات کو نئے راستے دینے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم، کیا ماسکو اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کر پائے گا کہ امریکہ میں ایندھن کی بلند قیمتوں پر قابو پایا جا سکے، اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہی لگایا جا سکے گا۔ اقتصادی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ معاہدہ محض ایک علامتی سیاسی بیان ہے یا واقعی اس سے زمینی حقائق پر کوئی گہرا اثر پڑے گا۔