World
نیپال سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، 5 افراد لاپتہ، امدادی سرگرمیاں جاری
نیپال میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ کر کئی مکانات تباہ ہو گئے ہیں اور کم از کم پانچ افراد لاپتہ ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن اور طبی امداد کی فراہمی میں مصروف ہیں۔
نیپال کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے اچانک سیلاب اور زمین کا تودہ گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے باعث تباہی مچ گئی ہے، جہاں کم از کم پانچ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، سیلابی ریلے اپنے راستے میں آنے والے متعدد مکانات اور املاک کو بہا کر لے گئے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
حالات کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے نیپال کی انتظامیہ نے اور متعلقہ حکام نے متاثرہ اور خطرے سے دوچار دیہات کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور انخلا کی ہدایات جاری کی ہیں۔ دوسری جانب، وزارت صحت اور دیگر ہنگامی ادارے چمنوبری اور دیگر متاثرہ اضلاع میں ہنگامی طبی امداد اور ریسکیو رسپانس کے لیے مکمل طور پر متحرک ہو چکے ہیں تاکہ کسی بھی بڑے جانی نقصان کو روکا جا سکے اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے...
بین الاقوامی فلاحی ادارے 'سیو دی چلڈرن' نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اس علاقے میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں، جو پہلے ہی اگست کے مہینے میں اسی نوعیت کی قدرتی آفت کا شکار ہو چکا تھا۔ امدادی ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ بے گھر ہونے والے افراد اور بچوں کو خوراک، سرپناہ اور طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں...
ادھر خطے کے دیگر ممالک میں بھی اس موسمی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ بھارتی ریاست بہار کے آبی وسائل کے محکمے نے واضح کیا ہے کہ فی الحال نیپال سے آنے والے سیلابی پانی سے بہار میں کسی بڑے سیلاب کا خطرہ نہیں ہے، تاہم ندی نالوں کے کناروں پر رہنے والی آبادیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام لاپتہ افراد کا سراغ نہیں مل جاتا اور متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام مکمل نہیں ہو جاتا۔