Politics
بھارت میں کاک روچ تحریک کے احتجاج اور نئی پیش رفت
بھارت میں 'کاک روچ' تحریک کے رہنماؤں کی رہائی کے بعد حکومت مخالف مظاہروں میں مزید تیزی لانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس تحریک کے رہنماؤں نے مودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ملک میں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
بھارت میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی منفرد 'کاک روچ' تحریک کے رہنماؤں کی عارضی حراست کے بعد رہائی عمل میں آ گئی ہے، جس کے فوراً بعد اس تحریک کے منتظمین نے ملک بھر میں مزید احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی دہلی کے جنتر منتر اور دیگر اہم مقامات پر اس احتجاج کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، جہاں آزاد ہونے والے رہنماؤں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف اپنی تحریک کو کسی بھی صورت میں کمزور نہیں پڑنے دیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ حکومتی پالیسیاں شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کر رہی ہیں اور ملک اس وقت اپنے ہی شہریوں کے ساتھ ایک غیر اعلانیدہ کشمکش کی کیفیت میں ہے۔
اس تحریک نے اس وقت ملک گیر توجہ حاصل کی جب اس کے مرکزی رہنما دیپکے (Dipke) نے سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ مگر اثر انگیز پوسٹ شیئر کی، جس کے بعد وہ دیکھتے ہی دیکھتے مودی حکومت کے خلاف مزاحمت کا ایک بڑا استعارہ بن گئے۔ اس تحریر اور نظریے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اور عام شہری سڑکوں پر نکل آئے، جس سے نمٹنے کے لیے بھارتی انتظامیہ اور پولیس نے دارالحکومت نئی دہلی میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا۔ سکیورٹی فورسز نے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے ہزاروں افراد کو حراست میں بھی لیا، تاہم اس کے باوجود عوامی سطح پر پائے جانے والے غم و غصے میں کمی نہیں آئی اور مظاہرین اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اختلافِ رائے رکھنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے حکومتی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ رہنماؤں نے رہائی کے بعد اپنے پہلے خطاب میں واضح کیا کہ ان کا مقصد حکومت کو جابرانہ ہتھکنڈوں سے پیچھے ہٹانا اور شہریوں کے آئینی حقوق کی بحالی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تحریک کی جانب سے ملک کے دیگر حصوں میں بھی ریلیوں اور دھرنوں کا پلان بنایا جا رہا ہے، جس سے حکومتی مشکلات میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔