World
سلامتی کونسل کا اجلاس: یوکرین میں شہریوں پر حملوں کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں یوکرین میں بڑھتے ہوئے شہری جانی نقصان پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ تنازع کے پرامن حل کے لیے فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اہم ہنگامی اجلاس کے دوران یوکرین میں بڑھتے ہوئے تشدد اور شہریوں پر ہونے والے حملوں کے سلسلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اب فوری طور پر رکنا چاہیے کیونکہ اس سے انسانی بحران میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے فضایی اور زمینی حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ سردیوں کا موسم قریب آنے کے ساتھ ہی یوکرین میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور نقل مکانی کرنے والے افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو پینے کے صاف پانی، بجلی اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص سلامتی کونسل کے اراکین نے زور دیا ہے کہ فریقین کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے اور سویلین آبادی کو جنگ کے اثرات سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ اجلاس کے دوران چین سمیت مختلف ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ اس طویل تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، اس لیے تمام فریقوں کو سنجیدہ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے عالمی امدادی اداروں کے لیے فنڈنگ بڑھانے کی بھی اپیل کی ہے تاکہ سردیوں سے پہلے لاکھوں متاثرہ افراد کو ضروری امداد فراہم کی جا سکے۔