LIVE
Loading Breaking News...

عبداللہ راشد نے اے آئی کے ذریعے پیچیدہ ڈیٹا آسان کر دیا

News Image
پشاور سے تعلق رکھنے والے عبداللہ راشد نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے عالمی کاروباری اداروں کے لیے پیچیدہ ڈیٹا کے تجزیے کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ ان کی یہ تکنیکی خدمات دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہی ہیں۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے نوجوان ماہرِ ٹیکنالوجی عبداللہ راشد نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے دنیا بھر کے کاروباری اداروں کے لیے پیچیدہ ڈیٹا کو سمجھنا اور استعمال کرنا انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ آج کے دور میں دنیا بھر کی کمپنیاں روزانہ کی بنیاد پر اربوں کلو بائٹس کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں، جسے روایتی طریقوں سے سمجھنا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ایک انتہائی مشکل اور وقت طلب کام ہوتا ہے۔ عبداللہ راشد نے اس مسئلے کا ایک مؤثر حل تلاش کرتے ہوئے اے آئی الگورتھمز اور جدید ماڈلز کا استعمال شروع کیا، جو اس خام ڈیٹا کو منٹوں میں صاف ستھرے اور قابلِ فہم رپورٹس میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ان کی یہ خدمات اب نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی عالمی کاروباری اداروں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں، جس سے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی تکنیکی ایجادات اور خدمات آنے والے وقت میں کاروباری دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیں گی۔ عبداللہ راشد کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر پاکستانی نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور مناسب مواقع مل جائیں، تو وہ عالمی منڈی میں اپنی ایک الگ شناخت بنا سکتے ہیں اور ملکی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی کامیابی نے پشاور اور پورے ملک کے نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھنے کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔