LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم کا انکشاف: روس کی بریگزٹ ووٹ میں مداخلت واضح ہے

News Image
برطانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ یہ بالکل واضح ہے کہ روس نے بریگزٹ ریفرنڈم کے دوران مداخلت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی ووٹرز کو اس بات سے کافی حد تک آگاہ نہیں کیا گیا تھا کہ غیر ملکی عناصر جمہوری نظام کو کیسے متاثر کرنا چاہتے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ یہ بات اب بالکل واضح ہو چکی ہے کہ روس نے بریگزٹ کے دوران ہونے والے رائے شماری کے عمل میں مداخلت کی۔ ان کے مطابق برطانوی عوام کو اس بات کی مکمل اور کافی معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں کہ کس طرح غیر ملکی عناصر اور قوتیں مملکت کے جمہوری اداروں اور نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حالیہ بیانات نے برطانوی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اس سے قبل بھی ملکی سلامتی کے اداروں اور پارلیمانی رپورٹس میں اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ وزیر اعظم کا ماننا ہے کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی بیرونی مداخلت کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور شہریوں کو حقائق سے بروقت باخبر رکھا جائے۔ ماہرین کے مطابق، بریگزٹ کا معرکہ برطانوی تاریخ کے متنازع ترین سیاسی ادوار میں سے ایک تھا، جس کے اثرات آج بھی ملکی معیشت اور معاشرت پر گہرے نقوش چھوڑ رہے ہیں۔ ایسے میں غیر ملکی اثر و رسوخ اور مداخلت کے الزامات کی بازگشت سے سیاسی مباحثے میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے، جس پر حزب اختلاف کی جماعتیں بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس معاملے پر مزید جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ برطانوی انتخابی نظام کو کسی بھی قسم کے بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس بیان پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر شدید بحث متوقع ہے کیونکہ سیکورٹی ادارے پہلے ہی سائਬਰ سکیورٹی اور پروپیگنڈا مہمات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔