LIVE
Loading Breaking News...

ڈی یو پی رہنما کارلا لاکہارٹ کا مشیل اونیل کے خلاف بیان

News Image
ڈی یو پی کی رکن پارلیمنٹ کارلا لاکہارٹ نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی گارواغی روڈ احتجاج میں کردار کی وجہ سے مشیل اونیل کو فرسٹ منسٹر کے عہدے سے ہٹانے میں مدد کر سکتی ہے۔ یونینسٹ ووٹرز میں اس معاملے پر گہرا غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
برطانیہ کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جب ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) کی رکن پارلیمنٹ کارلا لاکہارٹ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت مشیل اونیل کو فرسٹ منسٹر کے منصب سے ہٹانے کے لیے بھرپور مدد فراہم کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی آئرلینڈ میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور یونینسٹ حلقوں کی جانب سے گہرے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کارلا لاکہارٹ کے مطابق، یونینسٹ ووٹرز اور عام عوام میں مشیل اونیل کے ماضی کے کردار بالخصوص گارواغی روڈ پر ہونے والے ڈرمکری احتجاج کے حوالے سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹرز اس بات سے سخت نالان ہیں کہ مشیل اونیل نے ماضی میں متنازع مظاہروں میں شرکت کی تھی اور ان کا یہ رویہ ایک ایسے منصب کے شایان شان نہیں ہے جو پورے خطے کے تمام طبقات کی نمائندگی کرتا ہو۔ اس سیاسی پیش رفت نے شمالی آئرلینڈ کی اسمبلی اور حکومت میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر ڈی یو پی باضابطہ طور پر اس حوالے سے کوئی قدم اٹھاتی ہے تو اس کے حکومتی اتحاد اور امن عمل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اس معاملے پر دو حصوں میں تقسیم دکھائی دے رہی ہیں جبکہ عوامی سطح پر بھی اس بیان پر ملی جلی آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ یونینسٹ رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ماضی کے معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف، نیشنلسٹ حلقوں کی جانب سے بھی اس قسم کے بیانات پر ردعمل سامنے آ رہا ہے جس سے سیاسی ماحول مزید گرما گرم ہو گیا ہے۔ تمام نگاہیں اب ڈی یو پی کے اگلے لائحہ عمل اور پارلیمانی فیصلوں پر مرکوز ہیں۔