LIVE
Loading Breaking News...

بینکاک آئی ایم ایف اجلاس: جنگ اور قرضوں کا بحران زیر بحث

News Image
آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں مشرق وسطیٰ کی جنگ اور بڑھتے ہوئے عالمی قرضوں کے معاشی اثرات پر خصوصی غور کیا جائے گا۔ ان اجلاسوں کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جن میں حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور دنیا بھر میں بلند شرحِ قرضہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی دباؤ پر خصوصی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس تنازع کے باعث توانائی کی سپلائی لائنز متاثر ہونے کا خطرہ ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور مہنگائی کی لہر ایک بار پھر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اجلاس کے دوران ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کے بوجھ پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جائے گا۔ کوویڈ کے بعد کے دور اور اس کے بعد کی جنگی صورتحال کی وجہ سے بہت سے ممالک پہلے ہی شدید مالیاتی بحران کا شکار ہیں، جہاں زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور وزرائے خزانہ اس موقع پر ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مالی معاونت، پالیسی اصلاحات اور قرضوں کی تنظیم نو کے طریقوں پر غور کریں گے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیے جانے کا امکان ہے کہ کس طرح ترقی یافتہ ممالک غریب اور متوسط درآمدی ممالک کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بینکاک میں ہونے والے یہ مذاکرات آنے والے مہینوں میں عالمی معیشت کی سمت کا تعین کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، کیونکہ دنیا اس وقت ایک نازک معاشی موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنگ اور قرضے دونوں ہی سب سے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔