World
یمن کی جنگ کا نیا مرحلہ اور سعودی عرب پر حوثیوں کا حملہ
سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں پر کنگ خالد انٹرنیشنل پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کے نتیجے میں بارہ افراد جاں بحق اور تین سو زخمی ہو گئے۔ اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور امن مذاکرات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں پر ایک بار پھر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں جن کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے ایک بڑے حملے میں کم از کم بارہ افراد جاں بحق اور تین سو کے قریب زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ مبینہ طور پر کنگ خالد انٹرنیشنل پر کیا گیا جس نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا یمن کی طویل اور تباہ کن جنگ اب ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔حملے کے بعد سعودی حکام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یمن میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام تر سفارتی کوششوں کو اس حملے سے شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ فریقین کے درمیان پہلے ہی سے کشیدہ تعلقات اب مزید تلخی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف سکیورٹی کی صورتحال کو خراب کرتے ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔دوسری جانب بین الاقوامی برادری نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ سعودی عرب کی جانب سے اس بابت مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا دیگر پلیٹ فارمز پر اہم سفارتی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ یمن کی جنگ نے پہلے ہی لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا ہے اور اگر لڑائی کا یہ نیا سلسلہ نہ روکا گیا تو انسانی بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔