World
فلسطینی انتخابات میں تاخیر: عوام اور سیاسی حلقوں کا ردعمل
فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے قانون ساز انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے پر عوام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی شہری اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم کیے جانے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے ملک میں ہونے والے قانون ساز انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے فیصلے کے بعد فلسطینی عوام اور مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید اور ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ عام شہریوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان کے جمہوری حقوق کو براہ راست نقصان پہنچا ہے اور ان کے پاس اب یہ سوال باقی رہ گیا ہے کہ آنے والے وقت میں عالمی سطح پر ان کی نمائندگی کون کرے گا۔
فلسطینی علاقوں میں اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جہاں شہریوں کا ماننا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے انتخابات کا انعقاد نہ ہونا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت نے اپنے ذاتی یا جماعتی مفادات کی خاطر عوامی مطالبات کو پس پشت ڈال دیا ہے، جس سے عام لوگوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات کا التوا فلسطین کے اندرونی سیاسی بحران کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ حماس اور دیگر سیاسی دھڑوں نے بھی اس فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایک نئی اور شفاف انتخابی تاریخ کا اعلان کیا جائے تاکہ عوام کو جمہوری انداز میں اپنی قیادت چننے کا موقع مل سکے۔
موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی برادری بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ فلسطینی کاز کے لیے مستحکم اور عوامی تائید یافتہ قیادت کا ہونا ناگزیر ہے۔ فلسطینی عوام کا یہ استفسار کہ ان کی نمائندگی کون کرے گا، دراصل اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے اب مزید انتظار کرنے کو تیار نہیں ہیں اور فوری تبدیلی کے خواہاں ہیں۔