LIVE
Loading Breaking News...

عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں اور تحفظ کے اقدامات

News Image
امریکی پابندیوں کے تناظر میں عالمی فوجداری عدالت کو بچانے کے لیے صرف گفت و شنید پر انحصار کرنا بے معنی ہو چکا ہے۔ عدالت کے تحفظ اور خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
عالمی فوجداری عدالت (ICC) کو اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی کٹھن اور نازک دور کا سامنا ہے۔ عدالت پر عائد کردہ امریکی پابندیوں کے تناظر میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ محض زبانی کلامی مذاکرات اور امیدوں پر انحصار کرنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ بین الاقوامی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ اگر عالمی عدالت کے تقدس اور خودمختاری کو برقرار رکھنا ہے تو امریکہ یا کسی بھی دوسری بڑی طاقت کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گفت و شنید کا وقت اب گزر چکا ہے اور ادارے کے دفاع کے لیے ٹھوس حکمت عملی ناگزیر ہے۔ عدالت کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اگر عالمی قوانین کو اس طرح کے دباؤ سے محفوظ نہ رکھا گیا تو دنیا بھر میں انصاف کے نظام پر سے عوام کا اٹھ جانے والا اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی برادری بالخصوص ان ممالک پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو روایتی طور پر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی پاسداری کے حامی رہے ہیں۔ ان ممالک کو آگے بڑھ کر عالمی فوجداری عدالت کے تحفظ کے لیے سفارتی اور قانونی سطح پر موثر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، طاقتور ریاستوں کی مرضی کے تابع رہنے والے ادارے عالمی امن اور انصاف کی ضمانت دینے میں ناکام ہو جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریقین اس نازک موڑ پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات کریں جو عدالت کو دباؤ سے آزاد رکھ سکیں۔