World
ٹرمپ کا زیلنسکی پر تنقید اور روس ڈیزل ڈیل تنازعہ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے اور روس کے ساتھ ڈیزل ڈیل پر تنازع کھڑا ہونے پر اندرون اور بیرون ملک سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم سمیت عالمی رہنماؤں نے اس معاملے پر یوکرین کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر تنقید اور روس کے ساتھ ہونے والی ڈیزل ڈیل کے معاملے پر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یوکرین میں ایک نئے صدر کا انتخاب کیا جائے، جس پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان توانائی اور خصوصاً روس کے ساتھ ڈیزل کے سودے پر تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ، بی بی سی اور گارجین سمیت اہم بین الاقوامی اخبارات نے اس واقعے کو نمایاں طور پر کور کیا ہے۔ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ موجودہ یوکرینی قیادت عالمی بحران کو اچھے طریقے سے سنبھالنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے یوکرین کے لیے نئے رہنما کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف، یوکرینی حکومت اور اس کے مغربی اتحادی اس تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی دفاعی اور معاشی پالیسیوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس بیان سے واشنگٹن اور کییف کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر برطانوی وزیراعظم برہم اور دیگر یورپی رہنماؤں نے صدر زیلنسکی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں اور یوکرین کی خودمختاری کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ برطانوی قیادت کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں یوکرین کے ساتھ کھڑا ہونا عالمی امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، آئندہ دنوں میں امریکی سیاست اور یوکرین جنگ کے تناظر میں یہ تنازع مزید طول پکڑ سکتا ہے جس سے بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔