LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی عدالت کا کاک روچ تحریک کے رہنماؤں کی رہائی کا حکم

News Image
بھارت میں الیکشن کمشنر کی برطرفی کے لیے احتجاج کرنے والی 'کاک روچ' تحریک کے گرفتار رہنماؤں کو عدالت نے رہا کر دیا ہے۔ اس دوران دہلی میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور احتجاج کو روکنے کے لیے سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔
نئی دہلی: بھارتی عدالت نے حال ہی میں 'کاک روچ' نامی منفرد احتجاجی تحریک کے حراست میں لیے گئے رہنماؤں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ رہنما الیکشن کمشنر کی برطرفی اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، جس کے بعد دارالحکومت نئی دہلی میں شدید احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ عدالت کی جانب سے رہائی کا حکم ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک بھر میں حکومتی پالیسیوں اور جمہوری حقوق کی پامالی کے خلاف نوجوانوں کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، دہلی کے مشہور مقام جنتر منتر اور اس کے گردونواح میں ہونے والے مظاہروں کو کچلنے کے لیے بھارتی انتظامیہ نے سخت اقدامات کیے۔ پولیس نے امن و امان کے نام پر ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لے لیا اور شہر کے اہم حصوں کو عملاً لاک ڈاؤن میں تبدیل کر دیا۔ اس حکومتی کریک ڈاؤن کے باوجود رہا ہونے والے 'کاک روچ' گروپ کے رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں اور حکومتی ناانصافیوں کے خلاف اپنی جدوجہد ہر صورت جاری رکھیں گے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے احتجاج اور اس پر حکومتی کریک ڈاؤن پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال جمہوری اصولوں کے منافی ہے، جس سے ملک میں سیاسی و سماجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ رہائی پانے والے رہنماؤں کے نئے عزم کے بعد آنے والے دنوں میں نئی دہلی اور دیگر شہروں میں احتجاج کی نئی لہر اٹھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔