Business
پی ایس ایکس میں مندی، آئی ایم ایف ڈیل کے باوجود بازار حصص نیچے آ گیا
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پانے کے باوجود پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ تجارتی سیشن کے دوران ابتدائی فوائد برقرار نہ رہ سکے اور جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ منفی زون میں چلی گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں حالیہ دنوں کے دوران ایک دلچسپ اور متضاد صورتحال دیکھنے میں آئی ہے جہاں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پانے کے باوجود بازار حصص میں تیزی کا رجحان برقرار نہ رہ سکا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے ابتدائی طور پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا تاہم عالمی اور علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال نے تمام خوش فہمیوں پر پانی پھیر دیا اور بازار میں ایک بار پھر شدید مندی چھا گئی۔ کاروبار کے دوران کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس میں تین سو سے زائد پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے مارکیٹ کے شرکاء میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے تاہم سیاسی اور سکیورٹی سے جڑے خدشات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں کے دوران پہلے تو حصص کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا لیکن جوں ہی دن کا کاروبار آگے بڑھا، فروخت کا دباؤ بڑھتا چلا گیا اور تمام ابتدائی فوائد ضائع ہو گئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک ملکی سیاسی فضا میں بہتری اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے واضح پالیسیاں سامنے نہیں آتیں، اس وقت تک اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ کاروباری ہفتے کے اختتام تک مارکیٹ کے مجموعی حجم میں بھی کمی دیکھی گئی جبکہ چھوٹے اور بڑے سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے نئے حصص کی خریداری سے گریزاں نظر آئے۔