World
مارکو روبیو کا آبنائے ہرمز بائی پاس منصوبہ اور عالمی توانائی کے چیلنجز
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مارکو روبیو کا آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کا منصوبہ پائپ لائن کی حد بندیوں اور بحیرہ احمر کے سنگین خطرات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر اس اہم تجارتی راستے کے متبادل کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ ماہرین نے سینیٹر مارکو روبیو کے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کا مقصد دنیا کو آبنائے ہرمز کے خطرناک اور اہم تجارتی چوک پوائنٹ سے نکالنا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم رگ کی حیثیت رکھتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی براہ راست عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں اور توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکو روبیو کی جانب سے پیش کردہ بائی پاس کے اس لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ موجودہ پائپ لائنوں کی انتہائی محدود گنجائش اور ان کی تکنیکی حدود ہیں۔ اس کے علاوہ خطے میں زمینی اور سمندری بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور توسیع کے بغیر متبادل راستوں پر انحصار کرنا خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے توانائی کی سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا ایک اور اہم عنصر بحیرہ احمر میں موجود شدید سکیورٹی خطرات ہیں۔ بحیرہ احمر کا خطہ اس وقت تجارتی جہاز رانی کے لیے انتہائی غیر محفوظ بن چکا ہے، جہاں مختلف عسکری اور سیاسی تنازعات کی وجہ سے بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک بحیرہ احمر کے سکیورٹی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا اور پائپ لائنوں کی صلاحیت کو وسعت نہیں دی جاتی، تب تک دنیا کے لیے آبنائے ہرمز کا کوئی بھی قابل عمل اور محفوظ متبادل تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔