LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی گرین پارٹی میں صیہونیت کے معاملے پر قواعد کی تبدیلی کا مطالبہ

News Image
برطانوی گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی نے پالیسی سازی پر پارٹی رہنماؤں کو زیادہ کنٹرول دینے کے لیے اندرونی قواعد میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ پارٹی کی طرف سے صیہونیت کو نسل پرستی قرار دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
برطانوی گرین پارٹی کے ممتاز رہنما زیک پولانسکی نے پارٹی کے اندرونی قواعد و ضوابط میں اہم اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پالیسی امور پر پارٹی قیادت کا اثر و رسوخ اور کنٹرول مزید بہتر بنایا جا سکے۔ یہ تازہ سیاسی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گرین پارٹی کی جانب سے صیہونیت کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان اور ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا ہے، جس میں صیہونیت کو نسل پرستی قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور جماعت کے اندر بھی مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ زیک پولانسکی کی طرف سے قواعد میں تبدیلی کی یہ کوشش اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اہم پالیسی فیصلوں پر قیادت کا موثر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئے مطالبے سے پارٹی کے اندر پالیسی سازی کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی اندرونی بحثیں برطانوی سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں، بالخصوص جب بات بین الاقوامی نظریاتی مباحث اور مشرق وسطیٰ کی سیاست کی ہو۔ زیک پولانسکی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گرین پارٹی کے اندر نظم و ضبط اور پالیسی کی سمت کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ داخلی نظام کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے برطانوی گرین پارٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل اور اندرونی طاقت کے توازن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پارٹی کے عام اراکین اور اعلیٰ قیادت کے درمیان اس اصلاحاتی عمل پر آنے والے دنوں میں مزید بحث متوقع ہے، جس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ان تبدیلیوں کو کس حد تک عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔