LIVE
Loading Breaking News...

صدر زیلنسکی کا روس اور یوکرین کے درمیان توانائی جنگ بندی کا خیرمقدم

News Image
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حال ہی میں اس بات کا خیرمقدم کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ امریکی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس اہم پیش رفت کا اعلان کیے جانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کے مثبت اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام دونوں جنگ زدہ ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع میں کمی کی جانب پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند ہونے سے دونوں جانب کے عام شہریوں کو بڑی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ جنگ کے دوران بجلی گھروں اور گیس پائپ لائنوں کو شدید نقصان پہنچا تھا جس کی وجہ سے سرمائی موسم میں یوکرین کی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب اس عارضی یا جزوی معاہدے کے بعد توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ صدر زیلنسکی نے اپنے بیان میں زور دیا کہ یوکرین ہمیشہ سے پائیدار اور منصفانہ امن کا حامی رہا ہے اور اس طرح کے اقدامات خطے میں اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جنگ بندی کے نفاذ اور اس کی پاسداری کے لیے عالمی برادری کو سنجیدہ نگرانی کرنی ہوگی تاکہ کسی بھی فریق کی طرف سے خلاف ورزی کی صورت میں فوری نوٹس لیا جا سکے۔ عالمی رہنماؤں نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ توانائی کی جنگ بندی مستقبل میں ایک بڑی سیاسی اور عسکری جنگ بندی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کریں اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ اس تباہ کن تنازع کا پرامن خاتمہ ممکن ہو سکے۔