Pakistan
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت معطل، ایمرجنسی نافذ
پاکستان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبائی حکومت کو معطل کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے جس پر مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان میں سیاسی صورتحال نے ایک ڈرامائی موڑ لے لیا ہے جہاں وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیر قیادت قائم صوبائی حکومت کو معطل کر دیا ہے۔ صوبے میں حالات کی سنگینی کے پیش نظر ایمرجنسی کا نفاذ بھی کر دیا گیا ہے، جس کے بعد انتظامی امور کو چلانے کے لیے نئے اختیارات اور اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ملک میں جاری سیاسی تناؤ اور کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان خلیج کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کی معطلی کا فیصلہ سکیورٹی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے نام پر کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس فیصلے کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور اسے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں جمہوریت کو شدید نقصان پہنچے گا اور سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس حالیہ فیصلے کے بعد ملک بھر میں سیاسی احتجاج میں تیزی آ سکتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی پہلے ہی ملک گیر تحریک چلا رہی ہے۔ صوبے کے عوام اور سیاسی جماعتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی سکیورٹی فورسز بھی تعینات کر دی ہیں تاکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔