World
ٹرمپ کا روس کے ساتھ ڈیزل معاہدہ غیر قانونی قرار، ریپبلکن سینیٹر کی تنقید
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر سے پابندیاں نرم کرنے کی کوششوں پر ریپبلکن پارٹی کے اندر سے ہی شدید تنقید سامنے آ گئی ہے۔ ایک ریپبلکن سینیٹر نے خبردار کیا ہے کہ روس کے ساتھ تیل اور ڈیزل کے حوالے سے ہونے والا مبینہ معاہدہ قانون کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک میں ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو نیچے لانے کے لیے روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے کی کوششوں کو اپنی ہی جماعت کے اندر سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس معاملے پر ریپبلکن پارٹی کے ایک سینیٹر کی طرف سے نایاب اور سخت تنقید سامنے آئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماسکو کے ساتھ طے پانے والا یا تجویز کردہ یہ ڈیزل معاہدہ قانونی دائرہ کار سے باہر اور غیر قانونی ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب نئی انتظامیہ نے توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے روایتی خارجہ پالیسی کے برعکس اقدامات پر غور شروع کیا۔
ماہرین کے مطابق روس پر لگی پابندیوں کو ہٹانا یا ان میں عارضی نرمی کرنا واشنگٹن میں ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب یوکرین تنازعے کے باعث ماسکو کے خلاف بین الاقوامی سطح پر دباؤ برقرار ہے۔ امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے یکطرفہ اقدامات نہ صرف اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ اس کے سنگین قانونی اور آئینی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ریپبلکن سینیٹر کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر اس نوعیت کے معاہدے طے پانا ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کی معاشی ٹیم نے ان تنقیدوں پر فوری طور پر کوئی بڑا ردعمل ظاہر نہیں کیا تاہم ان کا اصرار ہے کہ امریکی عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینا اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس پالیسی کے تحت عالمی منڈی میں رس رسد کو بہتر بنانے اور قیمتوں کو نیچے لانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس اندرونی سیاسی کشمکش نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے روس کے ساتھ معاشی اور توانائی کے معاملات میں آگے بڑھنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا بظاہر محسوس ہوتا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس معاملے پر امریکی کانگریس کے اندر مزید گرما گرم بحث متوقع ہے جہاں ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ کچھ ریپبلکن قانون ساز بھی انتظامیہ کے ان اقدامات کو کڑی جانچ پڑتال کا نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر یہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو اس سے نہ صرف توانائی کی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ صدارتی اختیارات اور کانگریس کے درمیان طاقت کا نیا توازن بھی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔