Pakistan
کے پی حکومت اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ، وفاقی حکومت کا ایمرجنسی کا اعلان
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا ہے۔ حکومت نے صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات نہ کرنے پر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی قیادت والی حکومت کا دہشت گرد گروہوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اور مک مکا ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس کے مطابق صوبے میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور کئی اضلاع میں صورتحال یہ ہے کہ پولیس اسٹیشنوں تک کو مبینہ طور پر طالبان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ محض غفلت یا نااہلی کا معاملہ نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو باقاعدہ بااختیار بنانے اور طاقت کی تقسیم کا ایک فارمولا طے پانے کی کوشش ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر وزراء بھی موجود تھے۔ وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ صوبے میں غیر قانونی طور پر جمع ہونے والے افراد فوراً منتشر ہو جائیں کیونکہ انہیں کسی قسم کی صوبائی پشت پناہی حاصل نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی رٹ بحال کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا اور امن و امان کو سبوتاژ کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر اختلافات کے بعد اب صوبے میں آئینی بحران کی سی کیفیت پیدا ہو چکی تھی، جس کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہو گیا تھا۔
قانون وزراء کی وضاحت کے مطابق صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور جنگ جیسی فضا سے نمٹنے کے لیے گورنر کے زیر نگرانی ایک ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ تشکیل دیا گیا ہے جو بارہ اضلاع کے امور براہ راست سنبھالے گا۔ وفاقی حکومت نے صوبے کے امور چلانے اور گورنر کی معاونت کے لیے گیارہ رکنی ٹیکنوکریٹ خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل بھی تشکیل دی ہے جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین اور تجربہ کار افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ کونسل میں کفایت اللہ خان کو امور داخلہ، طارق محمود پشا کو مالیات، ڈاکٹر محمد ارشاد، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ اور ڈاکٹر سید امیر عبداللہ سمیت دیگر نامور شخصیات کو اہم محکمے سونپے گئے ہیں تاکہ صوبے میں انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا سکے۔
حکومت کا موقف ہے کہ خیبر پختونخوا کی معزول کابینہ صوبے کو تباہی کی طرف دھکیل رہی تھی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی تھی۔ وفاقی وزراء نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک دشمن عناصر کے ساتھ کسی بھی قسم کی ملی بھگت یا سہولت کاری کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے انتظامی اقدامات اور ایڈوائزری کونسل کی تشکیل سے صوبے کے حالات جلد بہتری کی جانب گامزن ہوں گے اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔