Pakistan
سوات میں کبل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 7 افراد جاں بحق
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں کبل پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہو گئے۔ علاقے میں جاری ایک پرامن احتجاجی جلسے کے قریب پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے پرفضا سیاحتی ضلع سوات میں دہشت گردی کا ایک ہولناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں کبل پولیس اسٹیشن کے بیرونی دروازے پر ایک خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جاں بحق اور اٹھارہ دیگر زخمی ہو گئے۔ ضلع سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) عمر خان کے مطابق، حملہ آور نے پولیس اسٹیشن کے داخلہ راستے پر اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب پولیس اہلکاروں نے اسے روکنے اور تلاشی لینے کی کوشش کی۔ اس طاقتور دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
حیرت انگیز اور تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ دھماکہ عین اس وقت ہوا جب کبل چوک کے قریب حالیہ دہشت گردی کی لہر کے خلاف سینکڑوں افراد ایک بڑے عوامی احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے۔ اس احتجاج کا مقصد علاقے میں مستقل امن کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ دھماکے کے وقت مظاہرے کا آخری مقرر مجمع سے خطاب کر رہا تھا جس کی وجہ سے وہاں شدید بھگدڑ مچ گئی۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر قریبی سیدو شریف ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر پورے علاقے کو سیل کر کے شوا اکٹھے کرنے اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
اس سانحے سے قبل ہونے والے احتجاجی جلسے کے مقررین نے سوات میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا تھا کہ وہ خطے میں امن کی بحالی کو یقینی بنائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ان کی تحریک کا واحد ایجنڈا امن کا حصول اور بچوں کے لیے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد کھلے عام ویڈیوز جاری کر رہے ہیں لیکن ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردانہ کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں سیکیورٹی خدات کے پیش نظر پولیس اور عوام دونوں ہی نشانے پر ہیں۔ اس تازہ ترین خودکش حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس بہیمانہ فعل میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔