LIVE
Loading Breaking News...

فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت کے پی ایڈو زری کونسل کا پہلا اجلاس

News Image
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت کے پی ایڈو زری کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن اور سکیورٹی کی بحالی کو اولین ترجیح قرار دیا گیا۔ گورنر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کا بلا امتیاز خاتمہ کیا جائے گا تاکہ عوام خوف سے آزاد زندگی گزار سکیں۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اتوار کے روز کے پی ایڈو زری کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کی، جو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی تھی۔ اجلاس کے آغاز میں کونسل کے تمام ارکان نے اپنا اور اپنے محکموں کا تعارف کروایا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کونسل کے ارکان کو مبارکباد دی اور اس بات پر زور دیا کہ انہیں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان کو ان کے محکموں کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی اور انہیں حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے کچھ دن دیے جائیں گے۔ گورنر نے ہدایت کی کہ امور کو تیزی سے چلایا جائے اور کرپشن پر زیرو ٹالیرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی کارکردگی میں سابقہ ادوار کے مقابلے میں واضح فرق نظر آنا چاہیے۔ اجلاس کے دوران امن و امان کی صورتحال کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ صوبے میں پائیدار امن، تحفظ اور استحکام کی واپسی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم دہشت گردی کی وجہ نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا شکار رہی ہے، اس لیے ریاست نے فیصلہ کیا ہے کہ کے پی سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری اصل جنگ دہشت گردی، اس کے نظریے اور اس نیٹ ورک کے خلاف ہے جو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرتا اور قانون کے نفاذ کو کمزور کرتا ہے۔ گورنر نے واضح کیا کہ محض بیانات حکومت کا امتحان نہیں ہوتے بلکہ عوام کی خدمت اصل معیار ہے، اور کونسل صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر بھرپور توجہ مرکوز کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنانا کافی نہیں بلکہ اس کی مالی معاونت اور سہولت کاری کرنے والے مافیا کا بھی قلع قمع کرنا ہوگا۔ علیحدہ سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور میں موجود تمام کنٹینرز کو مرحلہ وار جلد از جلد ہٹا دیا جائے گا اور ضرورت کے تحت انٹرنیٹ سروسز کو بھی جزوی طور پر بحال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہید پولیس اہلکاروں کے ورثا کے لیے معاوضے کے پیکیج کو بہتر بنانے، پولیس کی تنخواہوں کا جائزہ لینے اور شہیدوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینے کے فیصلے بھی کیے گئے۔ گورنر نے انتظامیہ اور پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں کسی ناخوشگوار واقعے کا پیش نہ آنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور دیگر اعلیٰ عسکری و سول حکام نے بھی شرکت کی۔