Business
پی کیو ای پی سی: کوئلے کی فراہمی کے معاہدوں پر ایک سالہ حد کی مخالفت
پی کیو ای پی سی نے کوئلے کی فراہمی کے معاہدوں پر ایک سال کی پابندی کی شدید مخالفت کی ہے۔ اس فیصلے سے طویل مدتی توانائی کے منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی (پی کیو ای پی سی) نے کوئلے کی فراہمی کے معاہدوں پر ایک سال کی مجوزہ حد عائد کرنے کی مخالفت کر دی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی پابندیوں سے توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی اور پاور پلانٹس کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ماہرین کے مطابق کوئلے کی درآمد اور اس کی مستقل فراہمی کے لیے طویل مدتی معاہدے انتہائی ضروری ہوتے ہیں تاکہ بجلی کی پیداوار بلا تعطل جاری رہ سکے۔
حالیہ دنوں میں توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں یہ معاملہ کاروباریحلقوں میں خاصی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ پی کیو ای پی سی کا کہنا ہے کہ ایک سال کی قلیل مدتی حد سے کوئلے کی قیمتوں میں اتار چڑھاو کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کا بالآخر خمیازہ صارفین کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ کمپنی نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پالیسی پر نظرثانی کریں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے اور توانائی کے منصوبے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اہداف حاصل کر سکیں۔
دوسری جانب، تجارتی اور صنعتی حلقوں نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کوئلے کی سپلائی کے حوالے سے سخت اور غیر لچکدار قوانین نافذ کیے گئے تو اس سے ملک میں بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ پی کیو ای پی سی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اور ریگولیٹری ادارے اس معاملے کا پائیدار حل نکالیں گے جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔