LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں ہزاروں مظاہرین اور کاک روچ موومنٹ کے بانی گرفتار

News Image
بھارتی حکام نے متوقع احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کے لیے ملک بھر میں ہزاروں مظاہرین اور سیاسی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں معروف 'کاک روچ' تحریک کے بانی اور دیگر طلبا رہنما بھی شامل ہیں۔
بھارتی دارالحکومت اور دیگر اہم علاقوں میں متوقع احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے حکام کی جانب سے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا ہے، جس کے دوران ہزاروں مظاہرین، سیاسی کارکنوں اور طلبا رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس کریک ڈاؤن کا بنیادی مقصد انتخابات سے قبل کسی بھی قسم کے بڑے احتجاج یا بدنظمی کو قبل از وقت ناکام بنانا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں معروف 'کاک روچ' (Cockroach) تحریک کے بانی اور رہنما بھی شامل ہیں، جو حالیہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ، دہلی اور دیگر ریاستوں میں بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں، طلبا یونین کے اراکین اور مختلف سیاسی تنظیموں کے کارکنوں کو بھی بڑے پیمانے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، سکم ڈیموکریٹک فرنٹ (ایس ڈی ایف) کے تین نوجوان رہنماؤں کو بھی نئی دہلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے پر حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دارالحکومت کے مختلف مقامات پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر رکھے ہیں اور مظاہرین کو اکٹھا ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے اس بڑے پیمانے پر کی جانے والی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کا حق ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے جسے حکومتی مشینری اور پولیس کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انتخابات سے عین قبل اس طرح کے سخت اقدامات سے ملک میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ حکومت عوامی تنقید اور تحریکوں کو کچلنے کی پالیسی پر گامزن دکھائی دیتی ہے۔